14 دسمبر 2021 - 15:12
ایران کی پڑوسی ملکوں سے ثقافتی شعبوں میں تعلقات کے فروغ پر تاکید

ایرانی تنظیم برائے اسلامی ثقافت اور تعلقات کے سربراہ نے محکمہ خارجہ میں عوامی، ثقافتی اور کھیلوں کی سفارت کاری کے اجلاس میں کہا ہے کہ بین الاقوامی ثقافتی امور میں پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی تنظیم برائے اسلامی ثقافت اور تعلقات کے سربراہ نے محکمہ خارجہ میں عوامی، ثقافتی اور کھیلوں کی سفارت کاری کے اجلاس میں کہا ہے کہ بین الاقوامی ثقافتی امور میں پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق، عوامی، ثقافتی اور کھیلوں کی سفارت کاری کے اجلاس کا آج بروز منگل کو ایرانی محکمہ خارجہ میں انعقاد کیا گیا جس میں اسلامی ثقافت اور تعلقات کی تنظیم کے سربراہ، وزیر برائے ثقافتی ورثہ، دستکاری اور سیاحت کے امور، کھیل کے وزیر اور پڑوسی ملکوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیروں اور ثقافتی مشیروں کے ایک گروپ نے شرکت کی

اس موقع پر علامہ "ایمانی پور" نے کہا کہ اسلامی ثقافت اور تعلقات کی تنظیم 60 ممالک میں 80 سے زیادہ ثقافتی مشنز رکھتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی ثقافت اور تعلقات کی تنظیم، اسلامی جمہوریہ ایران کی ثقافتی سفارت کاری کے مرکز کے طور پر قائم کی گئی تھی تاکہ دنیا کو ایرانی اسلامی ثقافت اور تہذیب کی واضح تصویر فراہم کرنے کے لئے بیرون ملک ثقافتی سرگرمیوں کو مربوط کیا جاسکے۔

ایمانی پور نے کہا کہ ہمارے پاس اس وقت 9 پڑوسی ممالک میں 17 ثقافتی مشنز ہیں۔ اگرچہ ہم ان ممالک کے ساتھ بہت اچھے اور قریبی تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن ہم موجودہ حالات کو سازگار نہیں سمجھتے۔

انہوں نے آزادانہ طور پر یا سیاسی اور اقتصادی کمیشنوں کی شکل میں ایران اور پڑوسی ممالک کی مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دینے اور ان کو فعال کرنے، ایران کے سرحدی شہروں اور پڑوسی شہروں کے درمیان سسٹر سیٹز کے قیام کی ترقی، ایران اور پڑوسی ممالک کے درمیان ثقافتی منڈیوں اور تخلیقی صنعت کے کنسورشیا کی تشکیل میں مدد اور ثقافتی معاشیات کی ترقی کو ایران اور پڑوسی ممالک کے درمیان مشترکہ ثقافتی تعاون کو وسعت دینے کے لیے اسلامی ثقافت اور تعلقات کی تنظیم کے اہم ترین منصوبوں میں سے چند قرار دے دیا۔

ایمانی پور نے کہا کہ آج ہم اس تنظیم میں جس بات پر سنجیدگی سے کام کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون اور ثقافتی تعلقات استوار کرنے کے لیے تمام سرکاری اور غیر سرکاری صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے، کیونکہ ہماری پالیسی پڑوسی ملکوں سے ثقافتی تعلقات کا فروغ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242